22 ستمبر 2012 - 20:30

بحرین کی قومی ڈیموکریٹک سوسائٹی کے نائب سربراہ نے انسانی حقوق کونسل کی صدر سے اپنی ملاقات اور ان کے اظہار خیال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ بحرین میں انسانی حقوقی کی افسوسناک صورت حال سے پوری طرح آگاہ ہیں!۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرینی راہنما اور قومی ڈیموکریٹک سوسائٹی کے نائب صدر حسن المرزوق نے نے کہا ہے کہ جنیوا میں ان کی اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی صدر لورا دوپوی لازارے (Laura Dupuy Lasserre) سے ملاقات ہوئی اور لازارے نے کہا کہ وہ بحرین میں انسانی حقوق کی بے تحاشا خلاف ورزیوں سے پوری طرح آگاہ ہیں۔انھوں نے آل خلیفہ حکومت پر قوانین اور انسانی حقوق کی پامالی کا الزام لگاتے ہوئے کہا: آل خلیفہ کی مانند مطلق العنان اور انسانی حقوق کی دشمن عرب حکومتوں کے سوا تمام ممالک نے حکومت بحرین سے مطالبہ کیا ہے کہ انسان حقوق کی پابندی کرے اور اپنے شہریوں کے لئے بیان کی آزادی کا امکان فراہم کرے۔ انھوں نے بعض عرب ممالک کی طرف سے آل خلیفہ کی حمایت کو غیراہم قرار دیا اور کہا: ان حکومتوں اور ان کے ممالک میں انسانی حقوق کی صورت حال بالکل آل خلیفہ کی حکومت اور بحرین میں انسانی حقوق کی صورت حال جیسی ہےانھوں نے کہا: جنیوا کانفرنس میں آل خلیفہ کے وزیر خارجہ خالد بن احمد آل خلیفہ نے دعوی کیا کہ "بحرین میں کوئی سیاسی قیدی نہیں ہے"، لیکن ہم ان سے پوچـھتے ہیں کہ نبیل رجب، عبدالہادی الخواجہ، العبدالجلیل السنکیس آل خلیفہ کی جیلوں میں کیا کررہے ہیں؟المرزوق نے کہا: دنیا کی تمام تنظیمیں ان افراد کو قانوندانوں کی حیثیت سے پہچانتے ہیں جن کو ان کے تفکرات کی بنا پر اسیر کیا گیا ہے اور آل خلیفہ حکومت جانتی ہے کہ ان کے دعوے ناقابل قبول ہیں۔ انھوں نے کہا: کہ انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ ناوی پیلے اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی بحرین میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی مذمت کی ہے۔

المرزوق نے البتہ وضاحت نہیں کی کہ انسانی حقوق کونسل کی سربراہ نے مزید کیا کہا؟ اور ان سوالات کا جواب نہیں دیا کہ کیا انسانی حقوق کونسل پر بڑی طاقتوں کا دباؤ ہے کہ وہ بحرین میں انسانی حقوق کی پامالی پر کوئی رد عمل نہیں دکھا سکتی؟ یا یہ کیا انسانی حقوق کونسل کے نزدیک بھی بحرین کے عوام انسانوں میں شمار نہیں ہوتے؟

.......

/169-110

تفصیل کے لئے رجوع کیجئے: کانفرنس میں بحرینیوں نے آل خلیفہ کا چہرہ بےنقاب کردیا / اپ ڈیٹس